ویڈیو گیمز کے بچوں کی نشونما پر اثرات

ویڈیو گیمز کے بچوں کی نشونما پر اثرات

ایک مکمل اور کامیاب شخصیت بنانے کے لئے کئی عوامل درکار ہوتے ہیں،جن میں جسمانی ، ذہنی ، روحانی ،نفسیاتی ، معاشرتی اور جذبا تی عوامل شامل ہے ۔م ان تمام عوامل میں اگر توازن ہو تو وہ شخصیت خاص بن کر دل میں گھر کر جاتی ہے۔نفسیات کی ڈکشنری میں ذہانت سے مراد یک ایسی خصوصیت ہے جس کے ذریعہ انسان اپنے ماحول سے مطابقت حاصل کرتا ہے۔ یعنی کوئی شخص اپنے ماحول سے جتناجلدی مطابقت حاصل کر لیتا ہے وہ اُتنا ہی ذہین تصور کیا جا تا ہے۔اور یہ بھی حقیقت ہے کہ شخصیت کے تمام پہلوؤں میں سے اگر ذہنی نشونما کی رفتار کم ہو تو پوری شخصیت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جہاں زمانہ ٹی وی، وی سی آر سے آگے بڑھ کے موبائل اور لیپ ٹاپ تک آگیا ہے، وہیں فرصت کے اوقات گزارنے کے لئے تفریح کے نت نرالے طریقے بھی متعارف ہوئے ہیں جن میں سے ایک ویڈیو گیم ہے۔ یونی ورسٹی آف وسکانسن کے ایک پروفیسر شان گرین کے مطابق وڈیو گیم انسانی دما غ کو تبدیل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اُن کا ماننا ہے کہ وڈیو گیم نہ صرف دماغ کی ساخت بلکہ دماغ کی کاکردگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں وڈیو گیمز کو دماغ کو تقویت اور پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزش تصور کیا جاتا ہے ۔ اسی تصور کے تحت وہاں حاملہ خواتین اپنا فارغ وقت ذہنی آزمائش پر مبنی وڈیو گیمز کھیلنے میں صرف کرتی ہیں۔وڈیو گیمز کے مثبت اثرات – ہدایت سمجھنے کی صلاحیت – ہر کھیل کے چند اُصول ہوتے ہیں۔چونکہ وڈیو گیمز کے ابتدا میں ہی ضروری شرائطوضوابط واضح کر دئے جاتے ہیں جو بچوں کے ذہنوں پر براہ راست اثر انداز ہو کرُ انہیں عملی زندگی میں ہدایت کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی کی تربیت دیتے ہیں . وڈیو گیمز کھیلنے کے دوران نئی معلومات اور ہدایات واضح ہوتی رہتی ہیں جن پر فوری فوری فیصلہ لے کر عمل کرنا ہوتا ہے ۔جس سے بچوں کو اُن کی عملی زندگی میں درست فیصلہ لینے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔بہت سے وڈیو گیمز تاریخی مقامات ،شخصیات،واقعات اور کہانیوں سے ماخوذ ہوتے ہیں ۔جو تاریخ،ثقافت،مذہبی تہوار اور نامور شخصیات کے متعلق معلو مات دینے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔اس طرح بچوں کی بہتر تربیت ہو پاتی ہے اور ان کی ذہنی نشونما ہوتی ہے ۔
۴۔حافظہ
ذہنی آزمائشوں پر مبنی سائنسی اور ریاضی کے گیمز جنھیں برین گیمزکہا جاتا ہے وہ نہ صرف بچوں کی تعلیمی کارکردگی بہتر بناتے ہیں ساتھ ہی یادداشت تیز کرنے والاایجنٹ بھی مانے جاتے ہیں۔ ذہنی دباؤ اور تناؤ کا علاج
وڈیو گیمز کوپین کلرز انٹی اینکزائٹی بھی کہا جاتا ہے۔بہت سے ایسے وڈیو گیمز دستیاب ہیں جو مختلف منفی سوچوں – ،اُلجھنوں پر قابو پانے میں مدگار ہوتے ہیں ۔ تخلیقی صلاحیتیں اجاگر کرتے ہیں
مختلف نوعیت کے چیلنجزسے نبرد آزما ہونا آتا ہے۔ یہ بچوں کو ٹیکنا لوجی اور آن لائن ورلڈسے متعارف کرانے کا اہم ذریعہ ہے۔تخلیقی صلاحیتیں عیاں ہو تی ہیں۷۔ سہی اور غلط کا فرق – ولن اورہیروکے کردار اور سوچ کا فرق واضح ہوتا ہے جس سے بچہ منفی خیالات پر قابو پانا سیکھتا ہے۔ساتھ ہی مقررہ وقت میں ٹاسک مکمل کرنے سے وقت کی قیمت کا اندازہ ہوتا ہے—-ویڈیو گیمز کے منفی اثرات’

۱۔ وڈیو گیمز کا حد سے زیادہ شوق بعض اوقات بچوں کی ذہنی نشونما پر منفی اثر بھی ڈالتا ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سے وڈیو گیمز میں اشتعال انگیزی ، غصے اور مار دھاڑ کو بے حد فروغ دیا جاتا ہے جس سے بچوں کا ذہن مشتعل رہتا ہے اور وہ انہیں غصہ زیادہ آنے لگتا ہے۔ بچے حقیقت اور خیالی دنیا میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں ۔ان کا ذہن ایک فرضی دنیا کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔۔سماجی تعلقات سے فرار اختیار کرتے ہیں۔ کچھ وڈیو گیمز بچوں کو غلط سماجی اقدار کا سبق دیتے ہیں۔
۶۔ جب بچے ان گیمز کے عادی ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی روز مرہی ذمہ داریوں سے فرار چاہتے ہیں۔جس سے ان کی تعلیمی کارکردگی پر بھی اثر پڑتا ہے۔ وڈیو گیمز ذہنی ،جذباتی سرگرمی کا نام ہے۔جو بچہ کو ملٹی ٹاسکر بناتا ہے۔مگر جس طرح دیگر سرگرمیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے اسی طرح گیمز کے چناؤ ،نوعیت اور اس کے دورانیہ پر بھی کڑی نظر رکھنا چاہئے۔یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک گھنٹے سے زیادہ بچوں کو وڈیو گیمز کھیلنے نہ دیں اوران سے بچوں کے ذہن اور ان کی شخصیت پر پڑنے والے ذہنی اثرات پر خاص نظر رکھیں۔
بشکریہ ایچ ٹی وی اردو

loading…


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں