سعودی عرب میں انتہائی اہم شعبوں میں سعودائزیشن کی حد 5 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دی گئی

سعودی عرب میں انتہائی اہم شعبوں میں سعودائزیشن کی حد 5 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دی گئی

بے روزگار سعودی اکاﺅنٹنٹس کے تعداد 6 ہزار تک پہنچ گئی
جدہ ….. اکاﺅنٹس کمیٹی کے سیکریٹری ڈاکٹر احمد المغامس کا کہنا ہے کہ 6 ہزار رجسٹرڈ سعودی اکاﺅنٹینٹ روزگار سے محروم ہیں ۔ وزارت محنت اس ضمن میں ہنگامی اقدامات کرے ۔ جدہ ایوان صنعت و تجارت میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر المغامس نے مزید کہا کہ مختلف جامعات سے فارغ التحصیل سعودی نوجوانوں نے اپنے کوائف وزارت محنت کے جاب بینک میں
جمع کروائے ہوئے ہیں اس کے باوجود انہیں ابھی تک کہیں سے کوئی آفر موصول نہیں ہوئی ۔ قومی اکاﺅنٹینٹ کمیٹی کی جانب سے سعودی ماہرین کو مناسب روزگار فراہم کرنے کےلئے وزارت محنت کے ساتھ تعاون جاری ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں مقامی نوجوانوں کو جن اکاﺅنٹس کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں ، روزگار مہیا کیا جائے ۔ قومی اکاﺅنٹس کمیٹی کے سیکریٹری نے مزید کہا کہ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے فریش افراد کو جب تک کہیں کام کرنے کا موقع نہیں ملے گا انہیں عملی تجربہ کس طرح حاصل ہو سکتا ہے ۔ نجی شعبے کو چاہئے کہ وہ نئے فارغ التحصیل ہونے والے
سعودی اکاﺅنٹینٹ کو روزگار فراہم کرے تاکہ انہیں عملی تجربہ حاصل ہو ۔ قومی کمیٹی نے وزارت محنت کے تعاون سے نجی سیکٹر میں اکاﺅنٹس اور دیگر اہم شعبوں میں سعودائزیشن کی حد 5 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد تک کردی ہے۔ اس وقت کام رجسٹرڈ قانونی اکاﺅنٹس فرموں کی تعداد 185 ہے جن کے آڈیٹرز باقاعدہ سند یافتہ ہیں ۔ آڈیٹرز کی فنی تربیت کے حوالے سے ڈاکٹر المغامس کا کہنا تھا کہ انکی کمیٹی ایسے اکاﺅنٹیٹس کو آڈیٹر کی فنی تربیت فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو فریش گریجویٹس ہوں۔ اس ضمن میں تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں ۔
بشکریہ اردو نیوز

loading…


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں