مدینہ منورہ میں فیشن شو کے خلاف احتجاج کی آگ بھڑک اٹھی

مدینہ منورہ میں فیشن شو کے خلاف احتجاج کی آگ بھڑک اٹھی

رسول پاک صلی اللہ و علیہ وسلم کے شہر مدینہ منورہ میں فیشن شو کے انعقاد پر سعودی عرب میں احتجاج کی آگ بھڑک اٹھی ہے. سعودی عرب میں چونکہ سیاسی اور ہر قسم کے مظاہروں کی ممانعت ہے, اس لئے فیشن شو کے خلاف احتجاج کرنے والوں نے ٹیوٹر کی راہ اختیار کی جہاں احتجاجی ٹویٹس کا ایک طوفان ہے کہ امڈ آیا ہے.
بالی ووڈ اداکار اکشے کمار کی فیشن شو کے دوران ایک اوچھی حرکت نے کچھ سال قبل ٹوینکل کھنہ کو جیل پہنچا دیاتھا
سوشل میڈیا صارفین نے فیشن شو کا اہتمام کرنے والوں کے خلاف سخت ناراضگی اور مذمت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان لوگوں نے اپنے”حرام” اقدام سے رسول پاک صلی اللہ و علیہ و سلم کے مقدس شہر کی تقدیس کو پامال کردیا ہے. ایک ٹیوٹ میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ اس مدینہ منورہ کے تقدس کو پاما ل کررہے ہیں ان پر اللہ تعالی ، فرشتوں اور عوام کا عذاب نازل ہوگا. ایک ٹیوٹ میں کہا گیا کہ اس مقدس شہر نے صحابہ کرام کو دیکھا ہے اور یہاں رسول اکرمﷺ ابدی نیند سو رہے ہیں.
اس شہر میں فیشن شو منعقد کر کے اس کے تقدس کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی. گزشتہ دسمبر میں ریاض کے قریب ایک فیشن شو کے انعقاد پر سعودی فرماں روا شاہ سلمان سخت ناراض ہوئے تھے اور وزارت تجارت کے مشیر کو برطرف کر دیا تھا. لیکن اس کے بعد بھی گزشتہ فروری کے آخر میں جدہ میں خواتین کا پہلا فیشن شو منعقد ہوا تھا. یہ شادیوں سے متعلق بین الاقوامی تقریب کا حصہ تھا جو تین روز تک جاری رہی. اس میں 160 مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے حصہ لیا تھا اور شادیوں کے فیشن، آرائش و زیبائش اور دلہنوں کے زیوارات کی نمائش کی گئی تھی. کہا جاتا ہے کہ 33 سالہ نوجوان ولی عہد محمد بن سلمان نے ملک میں آزاد خیالی کی جو تحریک شروع کی ہے یہ فیشن شو اسی کا اہم حصہ ہے . مبصرین کا کہنا ہے کہ مدینہ منورہ کے فیشن شو کے بعد ”روشن خیالی” کی اس تحریک کی شدید مخالفت سعودی حکومت کے لئے سیاسی طور پر پریشانی کی باعث بن سکتی ہے.
بشکریہ روزنامہ قدرت

loading…


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں