قرآن حکیم کی وہ صورت جسے صبح روشنی نکلنے سے قبل پڑھیں تو جسم میں ایسی تبدیلی آئے گی کہ آپ خود دنگ رہ جائیں گے

قرآن حکیم کی وہ صورت جسے صبح روشنی نکلنے سے قبل پڑھیں تو جسم میں ایسی تبدیلی آئے گی کہ آپ خود دنگ رہ جائیں گے

اگر کسی شخص کو بیماری کے سبب کسی جسمانی عضو کے بیکار ہونے کا ڈر ہو توقرآن مجید کا دل کہلانے والی سورۃ یٰسین کو ہر روز صبح و شام تین مرتبہ پڑھ کر اس عضو پر دم کرے، اسی طرح تنہائی میں بیٹھ کر پڑھے تو دل خوشی محسوس کرے. سورج نکلنے سے پہلے سورۃ یٰسین پڑھے تو سستی و کاہلی دور وہو جاتی ہے .صاحب فوائد الفوا دیکھتے ہیں’’ ایک مرتبہ امام ناصرالدین بستیؒ بیمار ہوئے اور اس بیماری میں آپ کو مرض سکتہ ہو گیا، اعزاء و اقرباء نے آپ کو مردہ تصور کر کے دفن کر دیا، رات کے وقت آپ کو ہوش آیا، خود کو مدفون دیکھا، سخت متحیر ہوئے، اس حیرت و پریشانی و اضطراب میں آپ کو یاد آیا کہ جو شخص حالت پریشانی میں چالیس مرتبہ سورہ یسین پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے اضطراب کو رفع کرتا ہے اور تنگی فراخی سے بدل جاتی ہے چنانچہ آپ نے سورہ یسین پڑھنی شروع کی، ابھی انتالیس مرتبہ پڑھ چکےتھے کہ ایک کفن چور نے کفن چرانے کی نیت سے آپ کی قبر کھودی، امام نے اپنی فراست سے معلوم کیا کہ یہ کفن چور ہے، چالیسویں مرتبہ آپ نے بہت دھیمی آواز سے پڑھنا شروع کیا کہ دوسرا شخص نہ سن سکے، ادھر آپ نے چالیسویں مرتبہ پورا کیا ادھر کفن چور بھی اپنا کام پورا کر چکا تھا.
’اگر آپ صرف 3 دن تک روزے رکھیں تو جسم میں یہ تبدیلی آجاتی ہے‘ سائنسدانوں نے ایسا انکشاف کردیا کہ جان کر آپ بے اختیار سبحان اللہ کہہ اُٹھیں، غیر مسلم بھی روزے رکھنے پر مجبور ہوجائیں گے کیونکہ۔۔۔آپ اٹھ کر قبر سے باہر آئے،
کفن چور اس قدر ڈرا کہ اس کادل پھٹ گیا اور چل بسا، امام ناصرالدین کو خیال ہوا کہ اگر میں فوراً شہر چلا جاؤں تو لوگوں کو سخت پریشانی و حیرت و ہیبت ہو گی، پس آپ رات کو ہی شہر میں گئے اور ہر محلہ کے دروازے کے آگے پکارتے تھے کہ میں ناصرالدین بستی ہوں تم لوگوں نے مجھے سکتہ کی حالت میں دیکھ کر غلطی سے مردہ تصور کیا اور دفن کر دیا، میں زندہ ہوں، اس واقعہ کے بعد امام ناصر الدین نے قرآن کریم کی تفسیر لکھی‘‘.اسی طرح کا واقعہ چوتھی صدی ہجری کے مشہور عالم و ادیب علامہ بدیع الزمان کے ساتھ بھی پیش آیا کہ وہ بیمار تھے، بیماری کے عالم میں ان پر سکتہ طاری ہوا، لوگ سمجھے کہ انتقال کر گئے،
اس لئے ان کی تجہیز و تکفین کر دی گئی اور انہیں دفن کر دیا گیا، حالانکہ آپ زندہ تھے، قبر میں ہوش آیا تو چیخ پڑے، لوگوں نے قبر دوباہ کھولی تو آپ نے داڑھی ہاتھ سے پکڑ رکھی تھی اور قبر کی ہولناکی کی وجہ سے انتقال فرما گئے تھے
بشکریہ روزنامہ قدرت

loading…


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں