دبئی میں امیگریشن حکام نے پاکستانی ڈرائیور کیلئے ایسا کام کردیا جس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ، نئی تاریخ رقم ہوگئی

دبئی میں امیگریشن حکام نے پاکستانی ڈرائیور کیلئے ایسا کام کردیا جس کی مثال ڈھونڈنا مشکل ، نئی تاریخ رقم ہوگئی

دبئی محکمہ امیگریشن نے بیٹے کو6برس بعد والدین سے ملوادیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق نوجوان دبئی میں نجی کمپنی میں ڈرائیوری کرتا تھا جبکہ اسکے معمر والدین پاکستان میں مقیم تھے۔معمولی تنخواہ ہونے کی وجہ سے نوجوان چھ برس سے پاکستان نہیں جاسکا تھا جبکہ اسکی خواہش تھی کہ وہ اپنے والدین کو کسی طرح عمرہ کرواسکے۔ بیٹے نے رقم جمع کرکے والدین کو عمرے کیلئے بھیجی اورانکا روٹ کراچی سے دبئی اور جدہ منتخب کیا۔
بیٹے کی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح دبئی ایئرپورٹ پر اپنے والدین سے ملاقات کرلے۔ اس سلسلے میں امیگریشن افسران کو جب اس نے اپنی روداد سنائی تو ایئرپورٹ ڈائریکٹر نے خصوصی طور پر نوجوان کی والدین سے ملاقات کا اہتمام ایئرپورٹ پر ہی کروادیا۔ اس طرح 6برس بعد نوجوان اپنے والدین سے مل سکا
۔ ایئرپورٹ ڈائریکٹر کاکہناتھا کہ دبئی کے خلیفہ شیخ زاید النہیان نے 2017ء کو فلاحی امورکا سال قرار دیا تھا جو اب تک جاری ہے۔ اس حوالے سے دبئی میں فلاحی کاموں کے حوالے سے مہم جاری ہے۔
بشکریہ روزنامہ پاکستان

loading…


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں