مکہ کے دستکار 1926 سے کعبہ کا غلاف سلائی کر رہے ہیں

مکہ کے دستکار 1926 سے کعبہ کا غلاف سلائی کر رہے ہیں

مکہ المکرمہ میں موجود کسوۃ فیکڑی تقریباً 90 سال پہلے وجود میں آئی تھی۔ تب تک کعبہ کا کالے کڑھائی کے کپڑے سے بنا غلاف باہر کے ملک مصر سے بن کر آتا تھا ۔ بادشاہ عبداالعزیز نے جب حجاز خطے کا کنٹرول سنبھالا تو انہوں نے کسوۃ فیکڑی کی بنیاد رکھی۔ سب سے پہلے فیکڑی جب 1926 میں وجود میں آئی تو یہ گرینڈ مسجد کے پاس اجائد کے علاقے میں تھی ، اسکے بعد یہ التیسیر کے علاقے میں اور پھر ام الجود تحصیل میں منتقل ہو گئی۔
شاہ عبدالعزیز نے فیکڑی میں کام کرنے کے لیے اس وقت کے سب سے بہترین اور شاندار فنکاروں کو بھرتی کیا ۔ فیکڑی کے ڈرایکڑ ڈاکٹر محمد باجودہ کا کہنا ہے کہ کعبہ کے غلاف کی تیاری کے لیے کسوۃ میں اعلی معیار کے ریشم ،کاٹن ، چاندی اور سونے کے دھاگے استعمال ہوتے ہیں۔ کسوۃ میں سلائی کرنے کے لیے استعمال ہونے والا سامان عام طور پر عرب جزیرے سے باہر کے ممالک سے لایا جاتا ہے۔
ریشم کے دھاگے کو کالے اور سبز رنگ سے رنگا جاتا ہے ۔ کسوۃکی باہر کی سلائیاں کالے رنگ کے دھاگے سے لگائی جاتی ہیں جبکہ اندر کی سلائیاں سبز رنگ کے دھاگے سے لگائی جاتی ہیں۔گزشتہ صدیوں میں غلاف سرخ ، سبز اور سفید رنگ کا ہوتا تھا لیکن اب سارا کا سارا غلاف کالےرنگ کا ہوتا ہے۔ ہر سال نیا کسوۃ حج سے دو ماہ پہلے تیار کر لیا جاتا ہے ۔ ایک کسوۃ کی تیاری میں 750 کلوگرام ریشم کا دھاگہ استعمال ہوتا ہے اور 120 کلوگرام سونے اور چاندی کاا ستعمال ہوتا ہے۔
کسوۃ کی تیاری میں کپڑے کے 47 ٹکڑے استعمال ہوتے ہیں اور ہر ٹکڑے کا سائز 14 میٹر لمبا اور 101 سینٹی میڑ چوڑا ہوتا ہے۔ کسوۃ کو کعبہ کو ڈھانپنے کے بعد زمین کے ساتھ تانبے کی تاروں سے باندھا جاتا ہے ۔ کسوۃ پر ہونے والی کڑھائی میں 8 سے 10 مہینےلگتے ہیں جسے دنیا کے بہترین دستکار کرتے ہیں۔ کسوۃکی تیاری کے بعد آخری مرحلہ اسکی پیمائش کا ہوتا ہے اور اسکی پیمائش میں متاف تک کی تمام جگہ شامل ہوتی ہے ۔
متاف وہ جگہ ہے جسے حج عمرہ زائرین کعبے کے طواف کے لیے استعمال کرتے ہیں اور اس جگہ پر لوگ ہر وقت طواف کررہے ہوتے ہیں ۔ اس جگہ پر حرکت کبھی نہیں رکتی حتیٰ کہ پانچ وقت کی نماز کے ٹائم پر بھی نہیں۔ رسمی طور پر کسوۃ کعبہ کے رکھوالے کوحج شروع ہونے سے پہلے تھما دیا جاتا ہے جو کہ عام طور پر بنی صاحبہ خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ اسکے بعد کسوۃ گرینڈ مسجد میں کسواء تبدیل کرنے والے دن لایاجاتا ہے ۔
ہر سال کسوۃ9 ذی الحج کو تبدیل کیا جاتا ہے جب تمام حج زائرین عرفات میں جمع ہوتے ہیں۔ کسوۃ کا نچلا حصہ ذی الحج سے لے کر 15 محرم تک زمین سے تقریباً 3 میٹر اونچا رکھا جاتا ہے اور اس دوران درزی مقدس پتھر کو سفید کپڑے سےچاروں طرف سے 2 میٹر تک ڈھانپ دیتے ہیں ۔ باجودہ نے مزید کہا کہ یہ عمل ہر سال دہرایا جاتا ہے تاکہ کسوۃ کو لوگوں کے ہاتھوں شہید ہونے سے بچایا جا سکے کیونکہ دوران حج ہر کوئی کعبہ کو چومنے اور چھونے کی کوشش میں ہوتا ہے۔
جیسے ہی محرم کے درمیان تک تمام زائرین حج جاچکے ہوتے ہیں تو کسوۃ کو نیچے واپس زمین تک کر دیا جاتا ہے۔ حج کے اختتام پر پرانے کسوۃ کے ٹکڑے کر کے عقیدت مندوں میں بانٹ دئیے جاتے ہیں۔ باجودہ نے مزید بتایا کہ کسوۃ کی حفاظت میں سب سے بڑی جو مشکل انھیں پیش آتی ہے وہ یہ ہے کہ دوران حج لوگ کسوۃ کے ٹکڑے آنسو بہاتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے یا پھر کسی نوکیلی چیز سے اتار لیتے ہیں اس لیے انھیں دوران حج ہر گھنٹے میں اس کی دوبارہ مرمت کرنی پڑتی ہے۔
فیکڑی سے ہر گھنٹے میں دستکاروں کو کسوۃکی دیکھ ریکھ اور دوبارہ سلائی کے لیے بھیجا جاتا ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ کہیں کسوۃ کہیں سے شہید تو نہیں ہو گیا اور اگر کہیں سے شہید ہوا ہو تو اسے اسی وقت دوبارہ ٹھیک کرد یا جاتا ہے ۔ یہ دستکار فیکڑی میں 24 گھنٹے مختلف شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ تقریباً 250 کے قریب دستکار ہر وقت کسوۃ فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔
بشکریہ اردو پوائنٹ

loading…


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں