کراچی کے ساحل سمندر پر صبح سویرے لہروں نے جل پری کو کنارےپر پھینک دیا بڑی تعداد میں لوگ دیکھنے جمع ہو گئے ویڈیو دیکھیں

کراچی کے ساحل سمندر پر صبح سویرے لہروں نے جل پری کو کنارےپر پھینک دیا بڑی تعداد میں لوگ دیکھنے جمع ہو گئے ویڈیو دیکھیں

کراچی کے ساحل سمندر پر صبح سویرے لہروں نے جل پری کو کنارےپر پھینک دیا بڑی تعداد میں لوگ دیکھنے جمع ہو گئے ویڈیو دیکھیں جل پری جیسی نظر آنے والی یہ خواتین دراصل کون ہیں اور ان کی یہ حالت کیسے ہوگئی؟ حقیقت آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گی، انتہائی حیران کن انکشاف ’جل پری‘ قصے کہانیوں اور فلموں کا کردار ہے لیکن امریکہ میں ایک ایسی خفیہ کمیونٹی ہے جو حقیقت میں جل پریاں بن کر زندگی گزارتی ہے. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ لوگ انسان ہی ہیں لیکن اپنی ٹانگوں پر مچھلی جیسا پلاسٹک کا لباس پہن کر اپنے نچلے دھڑ کو مچھلیوں جیسا بنائے رکھتے ہیں. 32سالہ کیٹلین بھی اس کمیونٹی کا حصہ ہے. کیٹلین بچپن ہی سے جل پری بننا چاہتی تھی. پہلی بار جب اس نے سکول میں اپنی ٹیچر کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو پوری کلاس قہقہے لگانے لگی. بالآخر بڑی ہو کر کیٹلین نے اس کمیونٹی کا حصہ بن کر اپنی خواہش کی تکمیل کر ڈالی. وہ بیالوجی میں گریجوایٹ تھی اور بہت اچھی نوکری کر رہی تھی لیکن اس نے کل وقتی جل پری بننے کے لیے نوکری چھوڑ دی. رپورٹ کے مطابق یہ لوگ گروپس میں جل پری بن کر پیراکی کرتے ہیں. کیٹلین کے گروپ میں ٹیسی لامورا، ایڈ اور مورگن و دیگر خواتین شامل ہیں. ان تمام نے ٹانگوں پر پہننے کے لیے رنگ برنگے مچھلیوں جیسے پلاسٹک کے ملبوسات تیار کر رکھے ہیں. جل پریاں بن کر پیراکی کرتے وقت انہوں نے اپنی پشت پر بھی مچھلی کے پروں جیسے خدوخال لگا رکھے ہوتے ہیں. رپورٹ کے مطابق امریکہ کی یہ خفیہ کمیونٹی خود کومرفوک (Merfolk)کہلاتی ہے
یہ نام اس تخیلاتی مخلوق کو دیا جاتا ہے جو سمندر میں رہتی ہے اور اس کا اوپری دھڑ انسانوں جیسا اور نچلا مچھلی جیسا ہوتا ہے. کیٹلین اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹ پر اپنی ”جل پری“ کے روپ میں تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کرتی رہتی ہے. اس کا کہنا ہے کہ ”ایک بار جب میں جل پری بن کر پانی میں اترتی ہوں اور اپنی دم کے سہارے تیرنا شروع کرتی ہوں تو میری تمام پریشانیاں غائب ہو جاتی ہے. مجھے ایسے لگتا ہے جیسے مجھ میں کوئی جادوئی طاقت آ گئی ہو.“ جل پری جیسی نظر آنے والی یہ خواتین دراصل کون ہیں اور ان کی یہ حالت کیسے ہوگئی؟ حقیقت آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گی، انتہائی حیران کن انکشاف ’جل پری‘ قصے کہانیوں اور فلموں کا کردار ہے لیکن امریکہ میں ایک ایسی خفیہ کمیونٹی ہے جو حقیقت میں جل پریاں بن کر زندگی گزارتی ہے. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ لوگ انسان ہی ہیں لیکن اپنی ٹانگوں پر مچھلی جیسا پلاسٹک کا لباس پہن کر اپنے نچلے دھڑ کو مچھلیوں جیسا بنائے رکھتے ہیں. 32سالہ کیٹلین بھی اس کمیونٹی کا حصہ ہے. کیٹلین بچپن ہی سے جل پری بننا چاہتی تھی. پہلی بار جب اس نے سکول میں اپنی ٹیچر کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو پوری کلاس قہقہے لگانے لگی. بالآخر بڑی ہو کر کیٹلین نے اس کمیونٹی کا حصہ بن کر اپنی خواہش کی تکمیل کر ڈالی. وہ بیالوجی میں گریجوایٹ تھی اور بہت اچھی نوکری کر رہی تھی لیکن اس نے کل وقتی جل پری بننے کے لیے نوکری چھوڑ دی. رپورٹ کے مطابق یہ لوگ گروپس میں جل پری بن کر پیراکی کرتے ہیں. کیٹلین کے گروپ میں ٹیسی لامورا، ایڈ اور مورگن و دیگر خواتین شامل ہیں. ان تمام نے ٹانگوں پر پہننے کے لیے رنگ برنگے مچھلیوں جیسے پلاسٹک کے ملبوسات تیار کر رکھے ہیں. جل پریاں بن کر پیراکی کرتے وقت انہوں نے اپنی پشت پر بھی مچھلی کے پروں جیسے خدوخال لگا رکھے ہوتے ہیں. رپورٹ کے مطابق امریکہ کی یہ خفیہ کمیونٹی خود کومرفوک (Merfolk)کہلاتی ہے. یہ نام اس تخیلاتی مخلوق کو دیا جاتا ہے جو سمندر میں رہتی ہے اور اس کا اوپری دھڑ انسانوں جیسا اور نچلا مچھلی جیسا ہوتا ہے. کیٹلین اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹ پر اپنی ”جل پری“ کے روپ میں تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کرتی رہتی ہے. اس کا کہنا ہے کہ ”ایک بار جب میں جل پری بن کر پانی میں اترتی ہوں اور اپنی دم کے سہارے تیرنا شروع کرتی ہوں تو میری تمام
پریشانیاں غائب ہو جاتی ہے. مجھے ایسے لگتا ہے جیسے مجھ میں کوئی جادوئی طاقت آ گئی ہو.“ جل پری جیسی نظر آنے والی یہ خواتین دراصل کون ہیں اور ان کی یہ حالت کیسے ہوگئی؟ حقیقت آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گی، انتہائی حیران کن انکشاف ’جل پری‘ قصے کہانیوں اور فلموں کا کردار ہے لیکن امریکہ میں ایک ایسی خفیہ کمیونٹی ہے جو حقیقت میں جل پریاں بن کر زندگی گزارتی ہے. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ لوگ انسان ہی ہیں لیکن اپنی ٹانگوں پر مچھلی جیسا پلاسٹک کا لباس پہن کر اپنے نچلے دھڑ کو مچھلیوں جیسا بنائے رکھتے ہیں. 32سالہ کیٹلین بھی اس کمیونٹی کا حصہ ہے. کیٹلین بچپن ہی سے جل پری بننا چاہتی تھی. پہلی بار جب اس نے سکول میں اپنی ٹیچر کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو پوری کلاس قہقہے لگانے لگی. بالآخر بڑی ہو کر کیٹلین نے اس کمیونٹی کا حصہ بن کر اپنی خواہش کی تکمیل کر ڈالی. وہ بیالوجی میں گریجوایٹ تھی اور بہت اچھی نوکری کر رہی تھی لیکن اس نے کل وقتی جل پری بننے کے لیے نوکری چھوڑ دی. رپورٹ کے مطابق یہ لوگ گروپس میں جل پری بن کر پیراکی کرتے ہیں. کیٹلین کے گروپ میں ٹیسی لامورا، ایڈ اور مورگن و دیگر خواتین شامل ہیں. ان تمام نے ٹانگوں پر پہننے کے لیے رنگ برنگے مچھلیوں جیسے پلاسٹک کے ملبوسات تیار کر رکھے ہیں. جل پریاں بن کر پیراکی کرتے وقت انہوں نے اپنی پشت پر بھی مچھلی کے پروں جیسے خدوخال لگا رکھے ہوتے ہیں. رپورٹ کے مطابق امریکہ کی یہ خفیہ کمیونٹی خود کومرفوک (Merfolk)کہلاتی ہے. یہ نام اس تخیلاتی مخلوق کو دیا جاتا ہے جو سمندر میں رہتی ہے اور اس کا اوپری دھڑ انسانوں جیسا اور نچلا مچھلی جیسا ہوتا ہے. کیٹلین اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹ پر اپنی ”جل پری“ کے روپ میں تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کرتی رہتی ہے. اس کا کہنا ہے کہ ”ایک بار جب میں جل پری بن کر پانی میں اترتی ہوں اور اپنی دم کے سہارے تیرنا شروع کرتی ہوں تو میری تمام پریشانیاں غائب ہو جاتی ہے. مجھے ایسے لگتا ہے جیسے مجھ میں کوئی جادوئی طاقت آ گئی ہو.“ جل پری جیسی نظر آنے والی یہ خواتین دراصل کون ہیں اور ان کی یہ حالت کیسے ہوگئی؟ حقیقت آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گی، انتہائی حیران کن انکشاف ’جل پری‘ قصے کہانیوں اور فلموں کا کردار ہے لیکن امریکہ میں ایک ایسی خفیہ کمیونٹی ہے جو حقیقت میں جل پریاں بن کر زندگی گزارتی ہے. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ لوگ انسان ہی ہیں لیکن اپنی ٹانگوں پر مچھلی جیسا پلاسٹک کا لباس پہن کر اپنے نچلے دھڑ کو مچھلیوں جیسا بنائے رکھتے ہیں. 32سالہ کیٹلین بھی اس کمیونٹی کا حصہ ہے. کیٹلین بچپن ہی سے جل پری بننا چاہتی تھی. پہلی بار جب اس نے سکول میں اپنی ٹیچر کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو پوری کلاس قہقہے لگانے لگی. بالآخر بڑی ہو کر کیٹلین نے اس کمیونٹی کا حصہ بن کر اپنی خواہش کی تکمیل کر ڈالی. وہ بیالوجی میں گریجوایٹ تھی اور بہت اچھی نوکری کر رہی تھی لیکن اس نے کل وقتی جل پری بننے کے لیے نوکری چھوڑ دی. رپورٹ کے مطابق یہ لوگ گروپس میں جل پری بن کر پیراکی کرتے ہیں. کیٹلین کے گروپ میں ٹیسی لامورا، ایڈ اور مورگن و دیگر خواتین شامل ہیں. ان تمام نے ٹانگوں پر پہننے کے لیے رنگ برنگے مچھلیوں جیسے پلاسٹک کے ملبوسات تیار کر رکھے ہیں. جل پریاں بن کر پیراکی کرتے وقت انہوں نے اپنی پشت پر بھی مچھلی کے پروں جیسے خدوخال لگا رکھے ہوتے ہیں. رپورٹ کے مطابق امریکہ کی یہ خفیہ کمیونٹی خود کومرفوک (Merfolk)کہلاتی ہے. یہ نام اس تخیلاتی مخلوق کو دیا جاتا ہے جو سمندر میں رہتی ہے اور اس کا اوپری دھڑ انسانوں جیسا اور نچلا مچھلی جیسا ہوتا ہے. کیٹلین اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹ پر اپنی ”جل پری“ کے روپ میں تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کرتی رہتی ہے. اس کا کہنا ہے کہ ”ایک بار جب میں جل پری بن کر پانی میں اترتی ہوں اور اپنی دم کے سہارے تیرنا شروع کرتی ہوں تو میری تمام پریشانیاں غائب ہو جاتی ہے. مجھے ایسے لگتا ہے جیسے مجھ میں کوئی جادوئی طاقت آ گئی ہو.“ جل پری جیسی نظر آنے والی یہ خواتین دراصل کون ہیں اور ان کی یہ حالت کیسے ہوگئی؟ حقیقت آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گی، انتہائی حیران کن انکشاف ’جل پری‘ قصے کہانیوں اور فلموں کا کردار ہے لیکن امریکہ میں ایک ایسی خفیہ کمیونٹی ہے جو حقیقت میں جل پریاں بن کر زندگی گزارتی ہے. میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق یہ لوگ انسان ہی ہیں لیکن اپنی ٹانگوں پر مچھلی جیسا پلاسٹک کا لباس پہن کر اپنے نچلے دھڑ کو مچھلیوں جیسا بنائے رکھتے ہیں. 32سالہ کیٹلین بھی اس کمیونٹی کا حصہ ہے. کیٹلین بچپن ہی سے جل پری بننا چاہتی تھی. پہلی بار جب اس نے سکول میں اپنی ٹیچر کے سامنے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو پوری کلاس قہقہے لگانے لگی. بالآخر بڑی ہو کر کیٹلین نے اس کمیونٹی کا حصہ بن کر اپنی خواہش کی تکمیل کر ڈالی. وہ بیالوجی میں گریجوایٹ تھی اور بہت اچھی نوکری کر رہی
لیکن اس نے کل وقتی جل پری بننے کے لیے نوکری چھوڑ دی. رپورٹ کے مطابق یہ لوگ گروپس میں جل پری بن کر پیراکی کرتے ہیں. کیٹلین کے گروپ میں ٹیسی لامورا، ایڈ اور مورگن و دیگر خواتین شامل ہیں. ان تمام نے ٹانگوں پر پہننے کے لیے رنگ برنگے مچھلیوں جیسے پلاسٹک کے ملبوسات تیار کر رکھے ہیں. جل پریاں بن کر پیراکی کرتے وقت انہوں نے اپنی پشت پر بھی مچھلی کے پروں جیسے خدوخال لگا رکھے ہوتے ہیں. رپورٹ کے مطابق امریکہ کی یہ خفیہ کمیونٹی خود کومرفوک (Merfolk)کہلاتی ہے. یہ نام اس تخیلاتی مخلوق کو دیا جاتا ہے جو سمندر میں رہتی ہے اور اس کا اوپری دھڑ انسانوں جیسا اور نچلا مچھلی جیسا ہوتا ہے. کیٹلین اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹ پر اپنی ”جل پری“ کے روپ میں تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کرتی رہتی ہے. اس کا کہنا ہے کہ ”ایک بار جب میں جل پری بن کر پانی میں اترتی ہوں اور اپنی دم کے سہارے تیرنا شروع کرتی ہوں تو میری تمام پریشانیاں غائب ہو جاتی ہے. مجھے ایسے لگتا ہے جیسے مجھ میں کوئی جادوئی طاقت آ گئی ہو
بشکریہ روزنامہ قدرت

loading…


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں