عمرہ کر کے واپس آنے والے میاں بیوی کو ائیرپورٹ پر سب سے بڑی خوشخبری سنادی، کیونکہ ۔ ۔ ۔

عمرہ کر کے واپس آنے والے میاں بیوی کو ائیرپورٹ پر سب سے بڑی خوشخبری سنادی، کیونکہ ۔ ۔ ۔

پاکستان کے شہر پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک غریب میاں بیوی متحدہ عرب امارات میں مقیم اپنے بیٹے سے گزشتہ چھ سال سے نہیں مل پائے تھے لیکن عمرے سے واپسی پر قدرت نے ان کی یہ تمنا یوں اچانک پوری کر دی کہ دونوں کی آنکھیں خوشی کے آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں۔
خلیج ٹائمز کے مطابق پاکستانی ڈرائیور طاہر ایوب 2012ء میں ملازمت کی تلاش میں متحدہ عرب امارات گئے جب ان کی عمر 21 سال تھی۔ پشاو رسے تعلق رکھنے والے طاہر ایوب ایک سرکاری کمپنی میں ملازم ہوئے اور اگلے چھ سال تک مسلسل متحدہ عرب امارات میں مقیم رہے اور اس دوران اپنے خاندان سے ملاقات نہ کرسکے۔ طاہر ایوب نے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا ’’میری آمدنی اتنی نہیں تھی کہ میں اپنے گھر والوں سے ملنے کے لئے جاسکتا۔ میری والدہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھیں کہ میں گھر کا چکر لگاؤں اور وہ میری شادی کے لئے بھی فکر مند تھیں لیکن میں اپنے خاندان کے لئے روزی کمانے اور بچت کرنے میں مصروف تھا۔‘‘
اتفاق سے طاہر ایوب کے افسران کو پتہ چلا کہ ان کے والدین عمرہ سے لوٹ رہے ہیں تو انہوں نے خصوصی اہتمام کیا کہ وہ واپسی کے سفر کے دوران متحدہ عرب امارات میں چار گھنٹے کا عارضی قیام کر سکیں تاکہ اپنے بیٹے سے ان کی ملاقات ہو جائے۔ ڈائریکٹر پاسپورٹ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم حماد کی خصوصی ہدایات پر طاہر ایوب کو پاسپورٹ کنٹرول سیکشن ٹرمینل تھری کے ایک پرائیویٹ ہال میں ان کے والدین کے ساتھ ملوانے کا اہتمام کیاگیا۔ چھ سال بعد ملاقات ہوئی تو ماں بیٹا ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور دونوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس موقع پرطاہر ایوب کا کہنا تھا ’’میری والدہ کا میرے دل میں بڑا خاص مقام ہے۔ میں ان سے ملا تو اپنے آنسو روک نہیں پایا۔ جب آپ اپنی ماں سے جدا ہوتے ہیں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ کی زندگی میں ان کی کتنی اہمیت ہے۔ میں انہیں دیکھ کر بے حد خوش ہوا اور انہوں نے بھی میرے لئے ڈھیروں دعائیں کیں۔‘
بشکریہ روزنامہ پاکستان

loading…


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں