وہ پہلا اسلامی ملک جہاں طیارہ سازی کی صنعت لگانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں

وہ پہلا اسلامی ملک جہاں طیارہ سازی کی صنعت لگانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں

سعودی عرب اور امریکی فرم بوئنگ کے درمیان مملکت میں طیارہ سازی کی صنعت کو مقامی بنانے کے لیے مشترکہ منصوبہ شروع کرنے سے متعلق ایک سمجھوتا طے پا گیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا کے شہر سیاٹل میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں اس سمجھوتے پر سعودی ملٹری انڈسٹریز کمپنی (سامی) کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کے چیئرمین احمد الخطیب اور امریکا کی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ( سی ای او) اور چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ڈینس موئیلن برگ نے دستخط کیے ۔
اس سمجھوتے کے تحت فکس پروں والے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی 55 فی صد مرمت ، دیکھ بھال اور بحالی کا کام سعودی عرب ہی میں ہو گا۔اس کے تحت ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی کی دیکھ بھال کے علاوہ فاضل پرزہ جات بھی مملکت میں تیار کیے جائیں گے۔اس سمجھوتے کا مقصد ویڑ ن 2030ء میں طے شدہ اہداف کا حصول ہے۔ اس میں ایک ہدف یہ مقرر کیا گیا ہے کہ آیندہ ایک عشرے کے دوران میں سعودی عرب کے دفاعی اخراجات کو 50 فی صد تک کم کیا جائے گا۔
اس سمجھوتے پر دست خطوں کی تقریب کے موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو بوئنگ ائیرکرافٹ انڈسٹریز کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا گیا ۔انھوں نے کمپنی کے مختلف حصوں کا دورہ بھی کیا ۔واشنگٹن میں سعودی سفیر شہزادہ خالد بن سلمان بن عبدالعزیز اور ان کے سرکاری وفد کے ارکان بھی ان کے ہمراہ تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں