عسکریت پسندوں کی مدد کرنےوالے ممالک ہی تنازع یمن کے ذمہ دارہیں، جنرل عسیری

عسکریت پسندوں کی مدد کرنےوالے ممالک ہی تنازع یمن کے ذمہ دارہیں، جنرل عسیری

…. وزیر دفاع اور ولی عہد مملکت کے مشیربریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نے کہا ہے کہ یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اصل ذمہ دار وہ ممالک ہیں جو ” انصار اللہ ” کی غیر معمولی انداز میں پشت پناہی کر رہے ہیں ۔عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ ان ممالک پر دباﺅ ڈالیں تاکہ وہ اپنے عمل سے باز آئیں اور یمن میں قیام امن کی راہ آسان ہو ۔ جنرل عسیری نے غیر ملکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہماری خواہش ہی نہیں بلکہ کوشش ہے کہ یمن میں ہونے والے انسانی المیے کو ختم کیا جائے جس کی وجہ سے وہاں کے عوام بے انتہاءمشکلات میں مبتلا ہیں ۔ یہ سب کچھ ان ممالک کی وجہ سے ہو رہا ہے جو بعض ملیشیاوں کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے انہیں استعمال کر رہے ہیں ۔ انہو ںنے مزید کہا کہ کسی بھی ملک میں عسکریت پسند گروہوں کو اکسانے اور ان کی پشت پناہی کرنے کے نتائج اسی طرح کے ہوتے ہیں جوکچھ آج ہم یمن میں دیکھ رہے ہیں اس لئے ہم سب کےلئے یہ ضروری ہے کہ عسکریت پسند اس گروہ کے خاتمے اور مستقل قیام امن کےلئے یمن کی حکومت کا ساتھ دیں تاکہ وہاں کے عوام پر امن زندگی شروع کر سکیں ۔عالمی سطح پر یمن میں مستقل بنیادوں پر قیام امن کی اشد ضرورت ہے ۔ جنرل عسیر ی نے مزید کہا یمن میں جب سے تنازعے کا آغاز ہوا ہے ہم بین الاقوامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر وہاں کے عوام کی فلاح وبہبود اور قیام امن کےلئے کوشاں ہیں ۔ ہماری مثبت کوششوں سے یمنی حکومت بھی بخوبی آگاہ ہی نہیں بلکہ وہ ہمارے مثبت کاموں کی معترف بھی ہے ۔ ہم یمن میں سیاسی حل کےلئے کوشاں ہیں جو وہاں کے عوام کو قبول ہو ۔ ہماری اس کاوش کو عالمی سطح پر یمنی حکومت نے بھی سراہا ہے ۔ مملکت سعودی عرب کی جانب سے یمن میں انسانی المیے کے حل کےلئے خلوص نیت سے کوششیں جاری ہیں ۔ یمن میں مستقل بنیادوں پر قیام امن ہمار ی اولین ترجیح ہے ۔ ہم وہاں ہونے والے انسانی المیے کو ختم کرکے اس معاشرے کو امن و استحکام کا گہوارا بنانے کے خواہاں ہیں ۔ یمن میں عسکریت پسند گروہ نے وہا ں کے امن و امان کو برباد اور قانونی حکومت کےخلاف بغاوت کی ہے جو عالمی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے ۔ وہ گروہ اپنی کارروائیوں سے نہتے شہریوں کو نشانہ بنا کر نقص امن پیدا کرنے میں مصروف ہے ۔ ہم یمنی جائز حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہیں تاکہ وہ عسکریت پسندی کا خاتمہ کرکے عوام کو امن مہیا کرے ۔ جنرل عسیری نے مزید کہاکہ ہم عسکریت پسندوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کےلئے بھی کوشاں ہیں ۔ اس حوالے سے بین الاقوامی کمیونٹی بھی ہمارے ساتھ ہے اور وہ ہمارے عمل سے بخوبی آگاہ بھی ہے ۔ جنرل عسیری نے مملکت کے ولی عہد کے دورہ امریکہ کے حوالے سے کہا کہ شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ واشنگٹن میں امریکی ذمہ داروں سے ملاقاتیں ہیں جو دوست ممالک میں عام طور پر ہوتی ہیں ۔ وہ بھی دوستوں کے ساتھ مل کر خطے کو دہشتگرد اور انتہاءپسند تنظیموں سے نجاد دلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس زور دیکر کہا کہ اس امر کی ضرورت ہے کہ بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے دیگر ممالک کے داخلی امور میں مداخلت نہ کریں اور دیگر ممالک کے امن و سلامتی کو مقدم رکھیں ۔قطری تنازعے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے جنرل عسیری نے کہا کہ قطری مسئلے سے زیادہ اہم مسائل درپیش ہیں جبکہ قطر کا تنازعہ بہت چھوٹا ہے، وہ اس اہمیت کا نہیں ۔ دریں اثناءپیرس میں منعقدہ سیمینار جس کا عنوان” انتہا پسندی اور دہشتگردی کی فنڈنگ کو روکنا“ تھا، سے خطاب کرتے ہوئے جنرل عسیری نے کہا کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک عالم گیر مسئلہ ہے جس کے پیچھے ایران جیسے ممالک کا بھی ہاتھ ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تہران اپنے ولایت فقیہ کے نظام کو پورے خطے میں پھیلانے کے خواب دیکھ رہا ہے
بشکریہ اردو نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں