یہ پیسے تو ملک میں مقیم ہر غیر ملکی سے ہر صورت لے کر رہیں گے سعودی حکومت کا بڑا اعلان کردیا

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں پر گزشتہ سال یکم جولائی سے اہلخانہ کی مد میں نئی فیس کا اطلاق ہو چکا ہے. گاہے بگاہے اس فیس سے متعلق غیر مصدقہ خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، جس پر وضاحت کرتے ہوئے سعودی حکام کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کے اہلخانہ پر عائد کی گئی فیس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے
خبر جاری ہے



جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پرائیویٹ سیکٹر میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کو اپنے اہلخانہ کے ہر فرد کے لئے فیس کی ادائیگی کرنا ہوگی. یہ فیس سالانہ بنیادوں پر ایڈوانس ادا کرنا ہوگی. عرب نیوز کے مطابق پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی اپنے اہلخانہ کی فیس SADAD پیمنٹ سسٹم کے ذریعے ادا کریں گے، جو کہ سعودی مالیاتی ایجنسی کی جانب سے قائم کی گئی نیشنل الیکٹرانک پیمنٹ سروس ہے
خبر جاری ہے




غیر ملکیوں کو جن افراد خانہ کے لئے فیس ادا کرنی ہوگی ان میں اہلیہ، 18 سال سے کم عمر بیٹے، اور تمام بیٹیاں شامل ہیں. اسی طرح والدین، اور وہ گھریلو ملازمین جنہیں غیر ملکی شہری نے سپانسر کیا ہو ، کی فیس بھی ادا کرنی ہوگی. اس فیس کی ادائیگی ایڈوانسڈ سالانہ بنیاد پر اقامے کی تجدید یا نئے اقامے کے اجراء، ایگزٹ ری انٹری ویزے کے اجراء یا فائنل ایگزٹ ویزے کے ہمراہ کی جائے گی. فیس کا نفاذ یکم جولائی 2017ء سے 100 ریال فی کس سالانہ کے حساب سے ہوچکا ہے. یکم جولائی 2018ء سے یہ فیس 200 ریال فی کس سالانہ، یکم جولائی 2019ء سے 300 ریال فی کس سالانہ، اور 2020ء میں 400 ریال فی کس سالانہ ہو جائے گی. اس فیس کا اطلاق ہر غیر ملکی پر ہوگا، چاہے اس کا تعلق کسی بھی ملک سے ہو، اور ادا کردہ فیس ناقابل واپسی ہوگی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں